ہوائے سرد چلی ساتھ ہو لیا میں بھی
مثالِ برگِ خزاں دیر تک اُڑا میں بھی
کسی طرح سے تو ٹوٹے یہ تیرگی کا فسوں
چراغ شب کو جلاتے ہوئے جلا میں بھی
جدھر نگاہ پڑی ایک ہُو کا عالم تھا
نجانے کونسے سگنل پہ رک گیا میں بھی
سمے کی دھوپ نے جھلسا دیا مجھے ورنہ
دکھائی دیتا تھا تجھ سا ہرا بھرا میں بھی
بتا رہے ہو مجھے کون سی قیامت کا
ہزار بار تو کرتا ہوں سامنا میں بھی
گنوا کے زیست کی پونجی مجھے خیال آیا
کہ اپنے بارے میں اے کاش سوچتا میں بھی
کسی شمار میں آیا نہیں مگر ارشد
تمھارے چاہنے والوں میں تھا کھڑا میں بھی
